: تعارف
عید الفطر خوشیوں، محبت اور باہمی اتحاد کا دن ہے، لیکن اس دن کے ساتھ کچھ اداس لمحے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ جہاں ایک: طرف نئے لباس، مہندی، اور چاند رات کی چمک دمک دلوں کو مسرت بخشتی ہے، وہیں دوسری طرف جدائی، بچھڑنے والوں کی یادیں اور تنہائی کی خلش بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ دو سطری شاعری انہی متضاد جذبات کا حسین امتزاج ہے—کبھی خوشی کی لہر، کبھی آنکھوں میں نمی، کبھی اپنوں کی قربت، تو کبھی بچھڑنے کا درد۔ امید ہے کہ یہ اشعار آپ کے دل کی ترجمانی کریں گے اور عید کے احساسات کو مزید گہرا کریں گے۔
1️⃣ چمکا ہے عید کا چاند مگر دل ہے اداس،
کچھ خواب بکھر گئے، کچھ یادیں ہیں پاس۔
2️⃣ نئی پوشاک، مہندی، خوشبو کی بہار،
مگر کوئی دل میں چھوڑ گیا ہے انکار۔
3️⃣ سب گلے مل رہے ہیں خوشی کے ساتھ،
پر کوئی رو رہا ہے چپکے چپکے رات۔
4️⃣ سج گئے بازار، ہر سو ہے روشنی،
پر دلوں کے اندھیرے مٹتے نہیں۔
5️⃣ عید آئی تو سب نے خوشیاں منائیں،
مگر کوئی اپنوں کو ڈھونڈنے نہ آئے۔
6️⃣ یہ عید بھی آئی، یہ عید بھی گئی،
کسی نے خوشی پائی، کسی کی آنکھیں بھیگیں۔
7️⃣ ماں کی دعاؤں سے سجی ہے یہ شام،
پر یتیم کا چہرہ ہے بے رنگ و بے نام۔
8️⃣ کہیں ہنسی بکھری، کہیں آنکھ نم ہے،
عید کا دن بھی کس قدر بے رحم ہے۔
9️⃣ دوست احباب سب قریب آ گئے،
پر جو بچھڑے وہ خواب بن کر رہ گئے۔
🔟 عید کا دن ہے، مسکان ہر چہرے پر،
پر جدائی کا غم ہے دل کے اندر۔
یہ اشعار عید کی خوشی اور جدائی دونوں کے جذبات کو بیان کرتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ کو پسند آئیں گے! 😊
Post a Comment